پیر 24 اگست 2026 - 21:38
ہفتۂ وحدت شیعہ سنی اتحاد مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہے: متولی حرم حضرت عبدالعظیم حسنیؑ

حوزہ/ حرم حضرت عبدالعظیم حسنیؑ تہران کے متولی حجۃ الاسلام والمسلمین قاضی عسکر نے کہا ہے کہ ہفتۂ وحدت شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی مضبوط کرنے کا اہم موقع ہے۔ دشمن شیعہ اور سنی میں فرق نہیں کرتا بلکہ مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرکے عالم اسلام کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم حضرت عبدالعظیم حسنیؑ تہران کے متولی حجۃ الاسلام والمسلمین قاضی عسکر نے کہا ہے کہ ہفتۂ وحدت شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی مضبوط کرنے کا اہم موقع ہے۔ دشمن شیعہ اور سنی میں فرق نہیں کرتا بلکہ مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرکے عالم اسلام کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہل سنت 12 ربیع الاول جبکہ شیعہ 17 ربیع الاول کو ولادتِ رسول اکرمؐ کا دن مانتے ہیں۔ ان دونوں تاریخوں کے درمیان ایام کو ’’ہفتۂ وحدت‘‘ قرار دینے کا مقصد شیعہ سنی اتحاد اور امت مسلمہ کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینا تھا، جسے امام خمینیؒ نے بھی قبول کیا۔

حجۃالاسلام قاضی عسکر نے قرآن کریم کی آیت «وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام مسلمانوں کو اتحاد اور تفرقے سے دور رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ باہمی نزاع مسلمانوں کی قوت اور اقتدار کو کمزور کردیتا ہے، اس لیے اگر مسلمان دنیا میں مضبوط بننا چاہتے ہیں تو انہیں متحد رہنا ہوگا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ شیعہ اپنے عقائد چھوڑ کر سنی ہوجائیں یا اہل سنت شیعہ ہوجائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے مشترکات کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ تمام مسلمان ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک قبلہ کے ماننے والے ہیں اور ان کے درمیان متعدد دینی و اخلاقی اقدار مشترک ہیں۔

حرم حضرت عبدالعظیمؑ کے متولی نے مقدسات کی توہین سے اجتناب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے کے لیے مقدسات کی توہین کرتے ہیں اور ایسے اقدامات کو شیعہ مذہب سے منسوب کرتے ہیں، حالانکہ اس طرز عمل کا امام خمینیؒ، رہبر انقلاب یا مکتب اہل بیتؑ سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم حتیٰ کہ دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین سے بھی روکتا ہے، کیونکہ اس سے ردعمل اور مزید اختلافات جنم لیتے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کسی صورت درست نہیں۔

حجۃالاسلام قاضی عسکر نے داعش جیسے تکفیری گروہوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن شیعہ اور سنی میں فرق نہیں کرتا۔ ایسے گروہوں نے شیعوں کے ساتھ اہل سنت کے علماء کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہفتۂ وحدت باہمی شناخت، مشترکات پر توجہ اور تفرقہ پیدا کرنے والی سازشوں کے مقابلے کا ذریعہ بننا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان جتنا اپنے مشترکات پر توجہ دیں گے اور ایک دوسرے کی توہین و اختلاف سے دور رہیں گے، اتنا ہی عالم اسلام مضبوط ہوگا اور دشمنوں کے لیے مسلمانوں کو کمزور کرنا مشکل ہوجائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha